اٹک صحافی سسر کا بہو پر بہیمانہ تشدد زخمی اور برہنہ کر کے گھر سے نکال دیا۔

0
270

اٹک صحافی سسر کا بہو پر بہیمانہ تشدد زخمی اور برہنہ کر کے گھر سے نکال دیا جائیداد کے لالچ نے آنکھوں پر پٹی باندھ دی غیر انسانی سلوک پرمعروف صحافی اس کے بھائی، بیٹوں اور دیگر گھر والوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

اٹک شہر کے رہائشی مہرین بی بی زوجہ عبداللہ فیض نے پولیس کو تحریری درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اس کی شادی 7سال قبل عبداللہ فیض س ہوئی جس سے میرے دو بچے ہیں پانچ سال قبل میرے والد کے انتقال کے بعد میرے حصے میں قریباً 60/70 لاکھ روپے کی رقم آئی جس کے بعد میرے شوہر اور اس کے گھر والوں نے مجھ پر ظلم و ستم کرتے ہوئے 12لاکھ روپے کی اراضی زبردستی فروخت کروا کر اس کے پیسے مجھ سے لے لیے اب بھی وہ لڑائی جھگڑا اور مار پیٹ کرتے ہیں جس پر میں اپنے میکے چلی گئی میرا سسرحاجی فیضیاب مجھے میرے والدین کے گھر سے لے آیا تو میرے ساتھ میری بہن بھی آ گئی میرے سسر نے مجھے کمرے سے باہر بلایا جہاں اس کا بھائی ظفریاب، اس کا بیٹا محمد ظفر، میرے دیور عبدالرحمان، عماد فیض اور میرا خاوند عبداللہ موجود تھے انہوں نے میری زمین بیچنے کے لیے پریشر ڈالنا شروع کیا ، میرے انکار پر حاجی فیض یاب نے مجھے بالوں سے پکڑ کر میرا منہ انتہائی غصہ میں چارپائی پر دے مارا جس سے میری بائیں آنجھ مضروب ہو گئی میرے دیوروں نے مجھے لاتوں مکوں سے مارا جبکہ ظفر یاب نے مجھے منہ پر مکا مارا جو مجھے ٹھوڑی پر لگا حاجی فیضیاب، ظفر یاب اور محمد ظفر نے مجھے گریبان سے پکڑ کر کھینچا جس سے میری قمیض پھٹ گئی اور میں برہنہ ہو گئی جس کے بعد میرے دیوروں نے مجھے گھر سے باہر نکال دیا مجھے میری بہن نے اپنی چادر دے کر میرا تن ڈھانپا میرا بھائی اطلاع ملنے پر مجھے لے کر اپنے گھر آ گیا پولیس نے ملزمان کے خلاف زیرِ دفعات 354/506/147/149 ت پ مقدمہ درج کر لی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here