معاشی ترقی و خوشحالی کے لیے ہمیں لازمی آئی ایم ایف کو مسترد کر کے اسلام کو نافذ کرنا ہوگا

0
147

2 دسمبر 2018 کو ملک کے مالی بحران اور روپے کی گرتی قدر کی وجہ سے صدر پاکستان عارف علوی نے قوم سے درخواست کی کہ وہ مقامی اشیاء خریدیں اور درآمدی اشیاء کے استعمال سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ، “پاکستانی روپے پر موجود دباؤ کے پیش نظر میں پاکستانیوں سے کہتا ہوں کہ پاکستان کی بنی اشیاء خریدیں۔۔۔ اس بحرانی کیفیت میں ہمیں لازمی پُرتعیش اور درآمدی اشیاء کی خریداری سے گریز کرنا چاہیے”۔

یہ درخواست اس وقت کی گئی ہے جب پاکستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں تاریخ کی کم ترین سطح پر گر گیا۔ روپیہ 3.8 فیصد قدر کھو بیٹھا اور 30 نومبر 2018 کو انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں اب تک کی کم ترین سطح 139.05 روپے پر بند ہوا جبکہ 29 نومبر 2018 کو روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 133.99 روپے پر بند ہوا تھا ۔30 نومبر 2018 کو دن کے آغازپر روپیہ ڈالر کے مقابلے میں ایک دن میں تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے 144 روپے تک گر گیا تھا۔ دسمبر 2017 کے بعد سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی یہ چھٹی بار بے قدری ہوئی ہے۔ پچھلے گیارہ مہینوں میں روپیہ 31.8 فیصد یعنی 33.55 روپے کی قدر کھو چکا ہے اور اس کے مطابق ہی مہنگائی میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حال ہی میں پاکستان کو اپنی کرنسی کے قدر ڈالر کے مقابلے میں 145 سے 150 تک گرانے کی تجویز دی تھی جب وہ نئی آنے والے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ بات چیت کر رہی تھی جو اس سے 6 سے 12 ارب ڈالر کا بیل آوٹ پروگرام لینا چاہ رہی ہے۔

دوسرے کئی معاملات کی طرح باجوہ-عمران حکومت معیشت کے حوالے سے بھی عوام کو حقیقی حل دینے اور اس پر عمل کرنے کی جگہ انہیں دھوکہ دے رہی ہے۔ ادائیگیوں کے توازن (بیلنس آف پیمنٹ) کے مسئلے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اس قدر اشیاء نہیں بنا رہا جس کی اس کے معاشرے کو ضرورت ہے۔ اس وقت پاکستان کی درآمدات 55 ارب امریکی ڈالر سے زائد ہیں۔ ان درآمدات کا بڑا حصہ ان اشیاء پر مشتمل ہے: مینرل پروڈکٹس (معدنی تیل اور اس کی مصنوعات) 14.617 ارب ڈالر، مشینری اور اس سے منسلک اشیاء 8.335 ارب ڈالر، کیمیکلز 6.040 ارب ڈالر، لوہا اور اسٹیل 4.787 ارب ڈالر، ٹیکسٹائل اور میں استعمال ہونے والی اشیاء 4.097 ارب ڈالر، گاڑیاں/ہوائی جہاز/مواصلات سے منسلک اشیاء 3.257 ارب ڈالر، پلاسٹک 2.864 ارب ڈالر، سبزیوں سے تیار اشیاء 2.852 ارب ڈالر، جانور/سبزیوں سے حاصل چکنائی/موم 2.150 ارب ڈالر اور خصوصی اشیاء 1.681 ارب ڈالر۔ اس طرح یہ بات واضح ہے کہ 55 ارب ڈالر کی درآمدات میں سے 51 ارب ڈالر تو صرف دس اشیاء کی درآمد پر خرچ ہو جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی چیز پُرتعیش اشیاء کے ضمن میں نہیں آتیں۔ ڈیزائنر کپڑے، ڈیزائنر چشمے، گھڑیاں، زیورات اور آرٹ کی اشیاء کو پُرتعیش اشیاء میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ اگر پُرتعیش اشیاء کی اس تعریف کو سامنے رکھا جائے تو پچھلے سال ان اشیاء کی درآمد پر 521 ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ اگر ہم اس فہرست میں موبائل فونز کو بھی شامل کرلیں جن کی درآمد پر 847 ملین ڈالر خرچ کیے گئے تو پُرتعیش اشیاء کی درآمد پر 1.368 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ اگر ہم اسے 1.5 ارب ڈالر بھی کرلیں تو ان تمام اشیاء کی درآمد کو بند کر دینے سے بھی صرف اسی قدر بچت ممکن ہے جس سے ہمارے درآمدی بل پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ ادائیگیوں کے توازن کا خسارہ 12 ارب ڈالر سے زیادہ ہے اور اس طرح مسئلہ اپنی جگہ پر پھر بھی موجود رہے گا۔

1950 کی دہائی سے اب تک پاکستان آئی ایم ایف کے شرائط کے ساتھ منسلک 12 پروگرام لے چکا ہے جس میں ہمیشہ ایک جیسی ہی شرائط ہوتی تھیں: ریاستی اداروں کی نجکاری، تجارت کو آزاد کرنا، بلواستہ ٹیکس، زرتلافی (سب سیڈی) میں کمی اور بجٹ خسارے میں کمی کرنا۔ آج اگر ہماری معیشت ہماری ضروریات کے مطابق اشیاء کو بنانے سے قاصر ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہلاکت خیز شرائط ہی ہیں۔ اور آج جب “تبدیلی” کی حکومت یعنی پی ٹی آئی کی حکومت آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکج لینے کی کوشش کر رہی ہے تو یہ شرائط بھی ان کے ساتھ ہی ویسے ہی آئیں گی جیسے کہ اس سے پہلے آتی رہی ہیں۔ یہ شرائط کاروباری لاگت کو بہت زیادہ بڑھا دیتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے پاکستان سے اپنے کاروبار کو دوسرے ممالک میں منتقل کر دیا ہے یا یہ کہ اپنی صنعتوں کو بند کر کے درآمدی اشیاء کی تجارت شروع کر دی ہے۔

حقیقی حل اسلام کے معاشی نظام کا مکمل نفاذ ہے جو ریاست پر یہ ذمہ داری ڈالتا ہے کہ وہ ایسے مواقع اور ماحول پیدا کرے جوکہ صنعتی و زرعی پیداوار اور کاروبار کے لیے انتہائی سازگار ہو۔ اسلام تیل، گیس اور بجلی کو عوامی ملکیت قرار دیتا ہے تاکہ لوگوں کو یہ سہولیات انتہائی مناسب قیمت پر ملیں۔ اسلام ظالمانہ ٹیکس، جیسا کہ جنرل سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس، نافذ نہیں کرتا اور اس طرح اشیاء کی قیمت کم اور وہ دوسرے ممالک کی اشیاء کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوتی ہیں۔ اسلام سونے اور چاندی کو کرنسی قرار دیتا ہے لہٰذا نبوت کے طریقے پر قائم خلافت میں کرنسی میں استحکام ہوگا اور کاروباری حضرات اس وجہ سے پریشان نہیں ہوں گے کہ ان کی کرنسی کی حقیقی قیمت کیا ہے جس کی وجہ سے کاروبار اور تجارت میں آسانی پیدا ہوگی۔ اسلام سودی قرضوں کو حرام قرار دیتا ہے اور اس طرح کاروباری حضرات کو بلا سود قرضے ملیں گے۔ یہ تمام پالیسی اقدامات اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے احکامات ہیں جو مقامی پیداوار کو بڑھائیں گے اور ہمارے لیے آئی آیم ایف کے چنگل سے نکلنے میں معاون ثابت ہوں گے۔

مرکزی رابطہ کمیٹی ولایہ پاکستان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here